رب تولے گا ہمارے پیمانے حساب میں!
ارے مولوی صاحب تم نے تو کمال کر دیا۔ ایک طرف ہم اپنی نیکیوں کی گنتی کر کے جنت کی ٹکٹ بک کروا رہے ہیں، دوسری طرف تم نے آ کر پھر وہی پرانا ڈھول بجا دیا کہ "نہیں بھائی! حساب اللہ کے ترازو میں ہو گا، تمہارے پیمانے میں نہیں!" واہ رے منافقت ہم صبح سے شام تک اپنے نیک اعمال کا حساب لگاتے پھرتے ہیں "آج پانچ نفل پڑھ لیے، کل جمعہ تھا تو غسل کیا، رمضان میں تراویح پوری کیں، زکوٰۃ نکالی، حج کر آیا، داڑھی بڑھا لی، ٹخنوں سے اوپر پاجامہ، عورتوں کو گھر میں بند کر دیا، موسیقی حرام قرار دے دی، فلاں کو کافر کہہ دیا، فلاں کو مشرک ٹھہرایا، واٹس ایپ پر "سبحان اللہ" فارورڈ کیا ۔۔۔ بس! جنت پکی!" اور جیسے ہی کوئی کہے کہ "بھائی، نیت دیکھی جائے گی، ریاکاری دیکھی جائے گی، دل کی خلوص دیکھی جائے گی، ظلم سے بچنا بھی نیکی ہے، حقوق العباد بھی ادا کرنے پڑیں گے" تو فوراً بھڑک اٹھتے ہیں "یہ تو وہابی ہے! یہ تو لبرل ہے! یہ تو قرآن و سنت سے ہٹ گیا! یہ تو نیکیوں کو کم کر رہا ہے!" ارے بھائی! تمہاری نیکیاں تو ویسے بھی "مولوی ایپ" پر چل رہی ہیں۔ وہاں تو بس چند کلکس...