Posts

Showing posts from November, 2025

رب تولے گا ہمارے پیمانے حساب میں!

Image
 ارے مولوی صاحب  تم نے تو کمال کر دیا۔ ایک طرف ہم اپنی نیکیوں کی گنتی کر کے جنت کی ٹکٹ بک کروا رہے ہیں، دوسری طرف تم نے آ کر پھر وہی پرانا ڈھول بجا دیا کہ  "نہیں بھائی! حساب اللہ کے ترازو میں ہو گا، تمہارے پیمانے میں نہیں!" واہ رے منافقت ہم صبح سے شام تک اپنے نیک اعمال کا حساب لگاتے پھرتے ہیں "آج پانچ نفل پڑھ لیے، کل جمعہ تھا تو غسل کیا، رمضان میں تراویح پوری کیں، زکوٰۃ نکالی، حج کر آیا، داڑھی بڑھا لی، ٹخنوں سے اوپر پاجامہ، عورتوں کو گھر میں بند کر دیا، موسیقی حرام قرار دے دی، فلاں کو کافر کہہ دیا، فلاں کو مشرک ٹھہرایا، واٹس ایپ پر "سبحان اللہ" فارورڈ کیا ۔۔۔ بس! جنت پکی!" اور جیسے ہی کوئی کہے کہ "بھائی، نیت دیکھی جائے گی، ریاکاری دیکھی جائے گی، دل کی خلوص دیکھی جائے گی، ظلم سے بچنا بھی نیکی ہے، حقوق العباد بھی ادا کرنے پڑیں گے" تو فوراً بھڑک اٹھتے ہیں "یہ تو وہابی ہے! یہ تو لبرل ہے! یہ تو قرآن و سنت سے ہٹ گیا! یہ تو نیکیوں کو کم کر رہا ہے!" ارے بھائی! تمہاری نیکیاں تو ویسے بھی "مولوی ایپ" پر چل رہی ہیں۔ وہاں تو بس چند کلکس...

سورۃ الکہف: دجال سے بچنے کی ویکسین یا چار عظیم فتنوں کا علاج؟

Image
ایک درست اور مستند نظر بہت سے لوگ جمعہ کے دن سورۃ الکہف پڑھتے ہیں  صرف اس لیے کہ "دجال سے بچاؤ ہو جائے گا"۔ یہ بات جزوی طور پر درست ہے،  لیکن مکمل حقیقت اس سے کہیں بڑی اور گہری ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درحقیقت اپنی امت کو قیامت سے پہلے آنے والے چار سب سے بڑے فتنوں (Trials/Temptations)  کی طرف اشارہ فرمایا تھا، اور اللہ نے ان چاروں فتنوں کا مکمل علاج ایک ہی سورۃ میں جمع کر دیا:  سورۃ الکہف۔ یہ چار فتنے وہی ہیں جو آج ہمارے سامنے کھل کر موجود ہیں: # فتنہ (Temptation/Trial) سورۃ الکہف میں کہانی آج کے دور میں شکل قرآنی علاج (مختصر) 1 فتنۃ الدین (دین اور ایمان کا فتنہ) اصحابِ کہف (آیات 9-26) سیکولرازم، لبرلزم، الحاد، فحاشی، LGBTQ پروپیگنڈہ، "دین پرانا ہو گیا" والا بیانیہ ایمان کی حفاظت کے لیے اچھا گروپ بناؤ، معاشرے سے علیحدگی اختیار کرو، اللہ سے پناہ مانگو 2 فتنۃ المال (مال اور دنیا کا فتنہ) دو باغوں والے آدمی کا قصہ (آیات 32-44) لگژری لائف، شوآف، حرام کمائی، لالچ، کریڈٹ کارڈز پر عیاشی، کرپٹو/شیئر مارکیٹ کا جنون مال کو رب نہ بناؤ، شکر کرو، صدقہ دو، یاد رکھو: ...

زمین پر قبضے کی ہوس اور جنازے کی حقیقت

Image
  آج کل سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت وائرل ہو رہی ہے۔  ایک خوبصورت اینیمی لڑکی پل پر کھڑی ہے، پیچھے گہرا پانی اور جنگل، اور نیچے سفید فونٹ میں لکھا ہے: " زمین پر قبضہ کرنے والوں کے جنازوں پر ضرور شرکت کیا کرو اور دیکھا کرو وہ کتنی زمین اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہے؟" – رب ہے یہیں  یہ جملہ پڑھتے ہی دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر جاتی ہے۔  سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی نیا سبق نہیں، ہمارے بزرگ ہمیشہ سے یہ بات کہتے آئے ہیں، لیکن آج کے دور میں جب ہر طرف "پلاٹ فائل"، "قبضہ مافیا"، "زمین ہڑپ" جیسے الفاظ عام ہو چکے ہیں، یہ جملہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔میں نے خود کئی جنازے دیکھے ہیں۔ بڑے بڑے زمیندار، کاروباری، سیاستدان — جنہوں نے زندگی بھر دوسروں کی زمینیں نگل لیں، جعلی کاغذات بنوائے، غریبوں کو بے گھر کیا۔ جب ان کا جنازہ اٹھتا ہے تو کفن میں لپٹا جسم دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔ صرف دو گز کپڑا۔ کوئی پلاٹ نہیں، کوئی فائل نہیں، کوئی اینٹ بھی ساتھ نہیں جاتی۔ بس دو شانوں پر ایک جسم، اور پیچھے روتے ہوئے وہ بیٹے جو اب آپس میں زمین کے ٹکڑوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر واقعی ہن...

چاند کی ناف

Image
  چاند کی ناف یہ جو سرخ تیر سے دکھایا جا رہا ہے، یہ چاند کی "ناف" ہی ہے، اور اس کا اصلی نام ٹائیکو (Tycho Crater) ہے۔ چاند کے پورے چہرے پر سب سے چمکدار اور خوبصورت جگہ ہے یہ۔ جب چاند مکمل (Full Moon) ہوتا ہے تو یہ بالکل ایسے لگتا ہے جیسے چاند کے پیٹ میں کوئی چمکتا ہوا بٹن لگا ہوا ہو، اسی لیے اردو/عربی میں اسے "چاند کی ناف" کہہ دیتے ہیں، بہت پیارا نام ہے! مزے کی بات یہ ہے کہ یہ گڑھا صرف ۱۰۸ ملین سال پرانا ہے (چاند کے معیار پر تو بالکل نیا نیا بچہ ہے)، اس لیے ابھی تک چمکدار ہے۔ جب کوئی بڑا شہابیہ ٹکرایا تھا تو اس نے چاروں طرف سفید چمکدار دھول اچھالی تھی، وہی دھول کی لمبی لمبی کرنیں (rays) اب بھی نظر آتی ہیں۔تو ہاں، یہ چاند کی اصلی ناف ہے، اور ساری دنیا میں مشہور ہے!

Ask for forgiveness Don't ask for permission

Ask for forgiveness Don't ask for permission معافی مانگو اجازت نہ مانگو زندگی ایک زندگی ایک سفر ہے جہاں ہر قدم پر فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ فیصلے چھوٹے ہوتے ہیں، کچھ بڑے۔ لیکن اکثر ہم اجازت کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں – والدین سے، استاد سے، باس سے، یا معاشرے سے۔ اور جب غلطی ہو جاتی ہے تو معافی مانگنے میں ہچکچاہٹ ہوتی ہے۔ آج کی یہ کہاوت "معافی مانگو، اجازت نہ مانگو" ہمیں ایک نئی سوچ دیتی ہے۔ یہ بتاتی ہے کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ہمت چاہیے، اور غلطیوں سے سیکھنے کی عادت۔ آئیے اس کہاوت کی گہرائی کو سمجھیں اور دیکھیں کہ یہ ہماری روزمرہ زندگی میں ھوتی ھے کیسے؟ کہاوت کا مطلب یہ کہاوت دو حصوں پر مشتمل ہے: معافی مانگو: جب آپ غلطی کریں تو فوراً معافی مانگیں۔ یہ آپ کی عاجزی اور ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے۔ معافی مانگنے سے رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور دل صاف رہتا ہے۔ اجازت نہ مانگو: نئی چیزیں آزمانے، خواب پورے کرنے یا فیصلے کرنے کے لیے دوسروں کی منظوری کا انتظار نہ کریں۔ اگر آپ کو یقین ہے کہ راستہ درست ہے تو آگے بڑھیں۔ اجازت مانگنے سے مواقع ضائع ہو جاتے ہیں اور خود اعتمادی کم ہوتی ہے۔ یہ ...

صلوٰۃ کی حقیقت: دو بڑی غلط فہمیاں اور ان کا درست جواب

Image
  صلوٰۃ کی حقیقت: دو بڑی غلط فہمیاں اور ان کا درست جواب "اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں..." یہ جملہ ہر نمازی کے دل میں گونجتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے صلوٰۃ کو دو انتہائی غلط رنگ دے دیے گئے ہیں۔ آئیے آج ان غلط فہمیوں کو دور کریں اور صلوٰۃ کی اصل حقیقت جانیں۔ غلط فہمی نمبر 1: "صلوٰۃ ایک نظامِ معاشرہ ہے"بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صلوٰۃ کوئی سماجی، سیاسی یا ریاستی ڈھانچہ ہے۔ جیسے کوئی "اسلامی نظام" جس سے معاشرہ چلے گا۔حقیقت: صلوٰۃ کوئی نظام نہیں — یہ عبادت ہے۔ یہ فردی حاضری ہے رب کی بارگاہ میں۔ جیسے آفس میں انٹری لگتی ہے کہ "میں آیا ہوں"، ویسے ہی صلوٰۃ میں انسان کہتا ہے: "اے رب! میں تیری طرف متوجہ ہوں، تیرا شکر گزار ہوں، تیری مدد مانگتا ہوں۔" غلط فہمی نمبر 2: "صلوٰۃ سے فحاشی اور منکرات روکے جائیں گے"کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر سب نماز پڑھیں تو فحاشی، چوری، جھوٹ خود بخود ختم ہو جائیں گے۔ جیسے صلوٰۃ کوئی "پولیس فورس" ہو جو ہاتھ پکڑ کر گناہ روک دے۔حقیقت: صلوٰۃ دل کی صفائی کرتی ہے — معاشرے کی اصلاح نہیں۔ اس کا اثر بالواسطہ ہے...

سلیمانی حصار سے سلیمانی چائے: ایک تاریخی عبادت گاہ کا مزاحیہ پاکستانی سفر

  سلیمانی حصار سے سلیمانی چائے تاریخ اشاعت: 11 نومبر  2025آج کی دنیا میں، جہاں تاریخ اور ثقافت ایک دوسرے سے الجھ کر مزاحیہ سانچوں میں ڈھل جاتی ہے،  ایک ایسا جملہ سننے کو ملا جو مجھے سوچنے پر مجبور کر گیا: " سلیمانی حصار "۔ یہ سن کر لگا جیسے کوئی قدیم قلعہ یا محاصرہ کی کہانی سنائی جا رہی ہو، لیکن جب بات آگے بڑھی تو پتا چلا کہ یہ تو ایک ڈرامے کا حصہ ہے –   جن کی شادی، ان کی شادی ۔ اور پھر، جیسے پاکستانی تخیل کی چنگاری لگ گئی، "سلیمانی حصار" تبدیل ہو گیا "سلیمانی چائے" اور "سلیمانی پان" میں۔ اب تک تو میں سوچ رہا ہوں کہ سلمان جی (جو بھی ہوں) سے چائے اور پان کا کیا رشتہ ہے؟  کیا سلمان صاحب نے چائے کی پتیاں جنات سے منگوائی تھیں یا پان کے پتوں کو جادوئی طلسم سے بھرا ہوا ہے؟  آئیے، اس مزاحیہ الجھن کو سلجھاتے ہیں – ایک بلاگ کی صورت میں،  جہاں تاریخ، ڈراما اور روزمرہ کی پاکستانی زندگی مل کر ایک دلچسپ قہقہہ اڑاتی ہے۔ سلیمانی حصار : ایک مقدس محاصرہ یا محض ایک دیوار؟ سب سے پہلے تو بنیادی بات سمجھ لیں۔ "سلیمانی حصار" دراصل "ہیکل سلیمانی" ک...