زمین پر قبضے کی ہوس اور جنازے کی حقیقت
آج کل سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت وائرل ہو رہی ہے۔
ایک خوبصورت اینیمی لڑکی پل پر کھڑی ہے، پیچھے گہرا پانی اور جنگل، اور نیچے سفید فونٹ میں لکھا ہے:
"زمین پر قبضہ کرنے والوں کے جنازوں پر ضرور شرکت کیا کرو
اور دیکھا کرو وہ کتنی زمین اپنے ساتھ لے کر جا رہا ہے؟"
– رب ہے یہیں
یہ جملہ پڑھتے ہی دل میں ایک ٹھنڈک سی اتر جاتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ یہ کوئی نیا سبق نہیں، ہمارے بزرگ ہمیشہ سے یہ بات کہتے آئے ہیں، لیکن آج کے دور میں جب ہر طرف "پلاٹ فائل"، "قبضہ مافیا"، "زمین ہڑپ" جیسے الفاظ عام ہو چکے ہیں، یہ جملہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔میں نے خود کئی جنازے دیکھے ہیں۔ بڑے بڑے زمیندار، کاروباری، سیاستدان — جنہوں نے زندگی بھر دوسروں کی زمینیں نگل لیں، جعلی کاغذات بنوائے، غریبوں کو بے گھر کیا۔ جب ان کا جنازہ اٹھتا ہے تو کفن میں لپٹا جسم دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔
صرف دو گز کپڑا۔
کوئی پلاٹ نہیں، کوئی فائل نہیں، کوئی اینٹ بھی ساتھ نہیں جاتی۔
بس دو شانوں پر ایک جسم، اور پیچھے روتے ہوئے وہ بیٹے جو اب آپس میں زمین کے ٹکڑوں پر لڑ رہے ہوتے ہیں۔یہ منظر دیکھ کر واقعی ہنسی آتی ہے — لیکن آنکھوں میں آنسوؤں کے ساتھ۔زمین پر قبضہ کرنے والا سوچتا ہے کہ وہ بہت طاقتور ہے۔
وہ عدالتوں میں جیت جاتا ہے، تھانوں میں بیٹھتا ہے، افسر دوست ہیں، جج صاحبان سے ملتا ہے۔
لیکن جب پھر وہی طاقتور کفن میں لپٹ کر آیا تو اس کی ساری طاقت کہاں گئی؟
وہ زمین جس کے لیے اس نے راتیں جاگ جاگ کر جعلی دستاویزات بنوائیں، آج اس کے نیچے ہی دفن ہو رہا ہے — صرف چھ فٹ۔
اور وہ بھی اس کی ملکیت نہیں، قبرستان کی کمیٹی کی امانت ہے۔
یاد رکھو،
جو زمین تم دوسروں سے چھین رہے ہو، وہ تمہاری نہیں بنے گی۔
تم مرتے ہی تمہارے بیٹے اسے بیچ دیں گے، یا تمہاری بیویاں دوسری شادی کر کے لے جائیں گی، یا تمہارے بھائی عدالت میں تقسیم کروا لیں گے۔
تم تو بس ایک عارضی چور ہو۔
اصل مالک تو وہی ہے جو کہتا ہے:
"اِنَّا لِلللّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ"
اگلے جنازے پر ضرور جانا۔
خاص طور پر اس آدمی کا جس نے تمہاری زمین ہڑپ کی تھی۔
اور جب وہ چھ فٹ گڑھے میں اترے تو مسکرا کر کہنا:
"بھائی جان، باقی زمین کا بندوبست ہو گیا؟
فائل ساتھ رکھی تھی نا؟
وہ بھی دفن کر دیں؟
"رب ہے یہیں۔
اور وہ دیکھ رہا ہے۔
کیا آپ نے بھی کبھی ایسا جنازہ دیکھا ہے
جہاں دل واقعی مطمئن ہو گیا ہو؟
تبصرے میں ضرور بتائیں۔
(دل سے لکھا گیا۔ شیئر کریں اگر یہ بات دل کو چھو گئی ہو)

Comments
Post a Comment