Posts

Showing posts from December, 2025

خود کو اسلامی بنائیں، پاکستان خود بخود اسلامی ہو جائے گا

Image
  اے میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو آج پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور ہم میں سے اکثریت خود کو مسلمان کہتی ہے۔ ہم اذان سنتے ہی نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، رمضان میں روزے رکھتے ہیں، حج اور عمرہ کے لیے لائنیں لگاتے ہیں۔  لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی مکمل اسلامی نہیں۔  سوال یہ نہیں کہ "پاکستان اسلامی کیوں نہیں بنا؟"  بلکہ یہ ہے کہ "پاکستان کے 25 کروڑ مسلمان ابھی تک مکمل اسلامی کیوں نہیں بنے؟ "اسلام کے 98% احکامات تو فرد پر ہیں – نماز، روزہ، زکوٰۃ، سچ بولنا، امانتداری، حقوق العباد۔ صرف 2% احکامات ریاستی سطح پر ہیں۔  بیچارہ پاکستان تو صرف 2% میں 98% کو سپورٹ کرے گا، لیکن اگر ہم خود وہ 98% پر  عمل نہ کریں تو نظام کیسے اسلامی بنے گا؟  غلط فہمی یہ ہے کہ ملک کو ٹوپی پہنا کر، ختنہ کرا کر، اللہ ہو اللہ ہو کی گردان سے اسلامی بنا دیں گے۔  نہیں اسلام کو پہلے اپنے دلوں اور اعمال میں نافذ کریں، پھر معاشرہ اور ریاست خود بخود اسلامی ہو جائے گی۔ سوچیں ذرا دودھ کی دکان پر  اگر دکان دار لکھتا ہے  "خالص دودھ دستیاب ہے...

ملحدوں شور نہ کرو، پیکچر تو ابھی باقی ہے!

Image
 بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہوئے کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ فلم ساز اور ڈرامہ نگار ہماری زندگی کی گہری حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔  فلم کی شروعات میں ہیرو کو دھکے کھانے پڑتے ہیں، ظالم بادشاہ یا ولن سب کچھ لوٹ لیتا ہے، مظلوم روتے رہتے ہیں، ظلم کی انتہا ہو جاتی ہے۔  لیکن پھر آتا ہے کلائمکس ہیرو اچانک طاقتور ہو جاتا ہے، ولن کو پکڑتا ہے، انصاف ہوتا ہے، اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا۔  آخر میں "ہپی اینڈنگ" اور تالیوں کی گونج۔ شاہ رخ خان کی ایک مشہور ڈائیلاگ یاد آتا ہے پیکچر ابھی باقی ہے میرے دوست یہ ڈائیلاگ تو فلم کے لیے تھا مگر یہ دنیا کی حقیقت پر بھی بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔ ملحد بھائیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ  اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنا ظلم کیوں؟  بچے بھوکے کیوں مر رہے؟  ظالم کیوں کامیاب ہیں؟  مظلوم کیوں رو رہے؟  اگر خدا ہے تو سپرمین کی طرح آسمان سے اتر کر ظالموں کو کیوں نہیں پکڑتا؟  سلطان راہی کی طرح گنڈاسہ اٹھا کر ولن کو کیوں نہیں مارتا؟ ان کا خیال ہے کہ انصاف تو فوراً، یہاں اور ابھی ہونا چاہیے۔ جیسے فلم کا ہیرو تیسرے ...

جب انتخاب ناممکن ہو: ایک میم نے دل کو چھو لیا

Image
 آج کل سوشل میڈیا پر ایک میم بہت وائرل ہو رہا ہے۔ تصویر میں ایک آدمی چھوٹی سی رافٹ پر کھڑا ہے، سمندر کی لہریں بلند ہیں، اور پانی میں ڈوبنے والے پانچ ہاتھ نظر آ رہے ہیں  ماں، باپ، بیوی، بیٹا اور بیٹی۔  اوپر لکھا ہے  "تمہارے پاس صرف 5 سیکنڈ ہیں۔  کس کو بچاؤ گے؟ یہ سوال دیکھتے ہی دل دھک سے رہ جاتا ہے۔ یہ کوئی آسان انتخاب نہیں۔ ہر رشتہ اپنی جگہ ناقابلِ یقین ہے۔ ماں نے جنم دیا، باپ نے سر پر ہاتھ رکھا، بیوی زندگی کی ساتھی ہے، بیٹا اور بیٹی تو آنکھوں کا نور۔ ایک کو بچانے کا مطلب باقی چار کو کھو دینا۔ اور پھر اکیلے جی کر کیا فائدہ؟  زندگی تو ختم ہو جائے گی۔بہت سے لوگ اس میم پر بحث کر رہے ہیں۔ کوئی کہتا ہے بیٹے کو بچاؤ کیونکہ نسل آگے بڑھے گی۔ کوئی بیوی کو، کیونکہ وہ سب سے قریبی ہے۔ کوئی ماں باپ کو، کیونکہ وہ بزرگ ہیں۔ لیکن سچ پوچھو تو یہ سب بہانے ہیں۔ دل ایک کو بھی کھونے کو تیار نہیں۔ ایک دوست نے اس میم پر کمنٹ کیا جو میرے دل کو چھو گیا سب کے بغیر زندگی بے کار ہے۔ 5 سیکنڈ ضائع کرنے کی بجائے ایک سیکنڈ میں سب کے ساتھ مر جانا بہتر ہے۔ "واہ! کیا بات ہے۔  یہ جواب ان...

استغفار: دل کی صفائی کا نورانی عمل

Image
  ‏استغفار دل کی صفائی کا نورانی عمل بسم اللہ الرحمن الرحیم اے اللہ! ہم تیری حمد بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں اور تجھ سے مغفرت مانگتے ہیں۔  استغفر اللہ ربی من کل ذنب وأتوب إلیه۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "واللہ! میں دن میں ستر مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔" (صحیح بخاری، حدیث نمبر: 6307) یہ حدیث ہمارے لیے ایک عظیم درس ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ جو معصوم عن الخطا تھے، گناہوں سے پاک تھے، پھر بھی دن میں ستر سے زیادہ بار استغفار کرتے تھے۔ یہ عمل امت کے لیے ایک پیغام ہے کہ استغفار کثرت سے کریں، کیونکہ یہ دل کے زنگ کو دور کرتا ہے، اللہ کی رحمت کو جذب کرتا ہے اور بندے کو اپنے رب کے قریب کرتا ہے۔ استغفار کیا ہے؟ استغفار اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگنا ہے۔ یہ صرف زبان کا عمل نہیں بلکہ دل کی توبہ ہے، جہاں بندہ اپنی خطاؤں پر شرمندہ ہوتا ہے، ان سے رجوع کرتا ہے اور آئندہ نہ کرنے کا عزم کرتا ہے۔   استغفار وہ کلینگ مٹرئل ہے جو انسان کے دل سے تکبر کے غبار کو صاف کرتا ہے۔ دل پر گناہوں کا زنگ لگ جاتا ہے، تکبر، حسد، غفلت اور دیگر برائیاں اسے سیاہ کر دی...

بالی ووڈ کے مسلمان: ٹوپی، تعویز اور لکھنوی آداب کا عجائب گھر!

Image
 ارے بھائی، بالی ووڈ کی فلمیں دیکھ کر تو لگتا ہے کہ ہندوستان کے سارے مسلمان ایک ہی مولڈ سے نکلے ہیں!  سر پر سفید ٹوپی، گلے میں بڑا سا تعویز لٹکتا ہوا، سرمہ لگا کر "آداب عرض ہے جناب" کہتے ہوئے اور اگر پاکستانی دکھانا ہو تو بس ایک ہی سٹائل: سخت گیر، مشن پر نکلا ہوا، یا پھر کوئی غدار ISI ایجنٹ جو ہندوستانی ہیرو کو پریشان کرے۔ اب حقیقت کیا ہے؟  میں نے ہزاروں ہندوستانی مسلمانوں سے ملاقاتیں کی ہیں  (جی ہاں، حقیقی زندگی میں!) – کوئی ٹوپی پہنے نظر نہیں آیا جو ہر وقت "آداب" کر رہا ہو۔ عام مسلمان تو جینز ٹی شرٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں، آفس جا رہے ہوتے ہیں، چائے پی رہے ہوتے ہیں، یا پھر اپنے کاروبار میں مصروف۔  کوئی تعویز گلے میں لٹکا کر نہیں پھرتا جیسے وہ کوئی سپر پاور ہو بالی ووڈ والوں کو مسلمان دکھانا ہے تو یا تو وہ "اچھا مسلمان" ہو جو ہندوستان کے لیے قربان ہو جائے، یا "برا" جو د، دہشت گرد یا گینگسٹر۔  اور پاکستانی؟ او، اوہو، وہ تو ہمیشہ منفی!  ہیرو کو پاکستان میں گھس کر مشن مکمل کرنا پڑتا ہے۔  چلو، پیسہ ان کا ہے، فلم ان کی، جیسا چاہیں بنائیں۔  لیکن کم...

درودِ ابراہیمی: اللہ اور اس کے رسول سے ابدی تعلق کا نورانی رشتہ

Image
 اے اللہ! درود و سلام نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے درود نازل فرمایا ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو تعریفوں والا، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو تعریفوں والا، بزرگی والا ہے۔ یہ وہ خوبصورت دعا ہے جسے ہم درودِ ابراہیمی کہتے ہیں۔ ہر نماز میں، ہر ذکر میں، ہر خوشی اور غمی میں ہماری زبانیں اسے دہراتی ہیں۔  مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس درود کے پیچھے کتنی گہری حکمت، کتنا پیار اور کتنا عظیم راز چھپا ہے؟ جب سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 56 نازل ہوئی إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّيُهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود (یصلون) بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فوراً پوچھا یا رسول اللہ! ہم آپ پر سلام تو بھیجتے ہیں،  لیکن صلوٰۃ (یصلون) کیسے بھیجیں؟ نبی کریم ﷺ نے...

حمد و نعتِ رسولِ عربیؐ

Image
 ربّ للعالمین نے کرم کیا انسان پر رحمت للعالمین عطا کیا انسان کو  خاک سے تاجِ سرِ آدم اٹھایا تو نے پھر اسی خاک میں ہیرے کو چھپایا تو نے  تو وہی ہے جس نے سمندر کو قلم بنایا پھر لا الٰہ کی سیاہی میں ڈبویا تو نے  جس دن تیری آمد ہوئی، ساری کائنات ہنسی ستاروں نے بھی جھوم کر درود پڑھایا تو نے   کعبہ نے جھوم کر پیشانی رگڑی زمین پر تیری پیدائش پہ سارا جہاں شرم آیا تو نے  تیرا سایہ بھی نہ تھا، مگر سورج ڈھلتا تھا تیری رحمت کے آگے زمانہ جھکایا تو نے   ہر پتھر تیرے لیے کلمہ پڑھنے لگا ہر کانپتی ہوئی شاخ نے سلام کہا   چاند تیرے اشارے پر دو ٹکڑے ہوا پھر بھی تیری عظمت کا راز نہ کھل پایا   اے میرے مولا! تیری ایک نظر کی خاطر عمر بھر کے گناہ معاف کروا دیے جائیں  تیری داڑھی کا ایک بال ساری جنت سے افضل تیری پیشانی کا پسینہ کوہِ عطر بنایا   وہ جو مکّہ سے مدینہ ہجرت کر گئے ان کے قدموں تلے ریت نے بھی درود پڑھا یا اے طہٰ! اے یٰسین! اے صاحبِ خلقِ عظیم تیرے سوا کوئی سہارا نہ ہم نے پایا  جب قیامت میں میرا نامِ اعمال دیا جائے تیری...

ختم اولیاء: وہ خفیہ بریک جو لوگوں نے مار دی، لیکن بات نہیں کرتے!

Image
  ایک سوچنے والا مسلمان ( آپ کا دوست)  بسم اللہ الرحمن الرحیم  دوستانِ گرامی  آج ہم ایک ایسے موضوع پر بات کریں گے جو امت مسلمہ کی روح میں گہرے اترا ہوا ہے، لیکن جسے لوگ کھل کر بیان کرنے سے گریز کرتے ہیں۔  ہم سب جانتے ہیں کہ ختم نبوت ایک ایسا عقیدہ ہے جس پر پوری امت متفق ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آئے گا، وحی کا تشریعی سلسلہ بند ہو گیا۔  اللہ کا یہ فیصلہ ہے، اور اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔  لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک اور "ختم" بھی ہے جو لوگ  خفیہ طور پر تسلیم کر چکے ہیں، مگر زبان پر لانے سے ڈرتے ہیں؟   جی ہاں، میں بات کر رہا ہوں ختم اولیاء کی   ختم نبوت : ایک متفقہ حقیقت پہلے تو ختم نبوت کو سمجھیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا: "مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ" (سورۃ الاحزاب: 40)۔ یعنی محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔  یہ ختم نبوت کا اعلان ہے، جو تاقیامت قائم رہے گا۔ اس پر سب متفق ہیں، اور ...

رب کا VFX اسٹوڈیو: جہاں ۸ ارب ہیرو ایک ساتھ شوٹ کر رہے ہیں مگر کوئی گرین اسکرین نہیں، صرف پردۂ غیب!

Image
  اے بھائیو اور بہنو آج کل جب بھی کوئی بالی ووڈ یا ہالی ووڈ کی فلم کا سین دیکھتے ہو تو پیچھے گرین اسکرین ہوتی ہے VFX  والے بعد میں پہاڑ، سمندر، خلائی جہاز، ڈائنوسار جو مرضی ڈال دیتے ہیں۔ اداکار تو بس ایک خالی ہال میں کھڑے ہو کر  ارے نہیں چلّاتا ہے اور ہم سینما میں بیٹھ کر رو پڑتے ہیں کہ واہ کیا سین تھا۔ اب ذرا سوچ اگر پوری کائنات ہی ایک بہت بڑا فلم سیٹ ہو؟ کوئی گرین اسکرین نہیں، کوئی لائٹ مین چیخ چیخ کر “سائیلنس!” نہیں چلا رہا، کوئی کلپر بوائے “ٹیک ون!” نہیں بول رہا، مگر پھر بھی ہر لمحہ شوٹ ہو رہا ہے، لائیو، 24/7، بغیر کسی “کٹ” کے۔اور ڈائریکٹر؟ وہ اوپر بیٹھا مسکرا رہا ہے۔ ہر انسان = ایک ہیرو + اپنا ذاتی کریو فلم کی شوٹنگ میں ہوتا کیا ہے؟  200-300 کریو ممبر 1000-2000 تماشائی گھیرا ڈال کر کھڑے ہوتے ہیں اداکار بس اپنے فریم میں دیکھتا ہے، سامنے والا ہجوم اسے دکھائی ہی نہیں دیتا اب اللہ کا  VFX  دیکھو تم سوچ رہے ہو تم اکیلے ہو کمرے میں؟ نہیں جناب! تمہارے ساتھ کم از کم تین ممبر ہمیشہ موجود ہوتے ہیں  اللہ – ڈائریکٹرِ اعلیٰ، جو تمہیں دیکھ رہا ہے (وہ تو ہر...

کیسے سوچنا سکھائیں، کیا سوچنا نہیں: چارلی کرک درست کیوں ہیں (اور سکول غلط کیوں ہیں)

Image
 ایک میم سوشل میڈیا پر گھوم رہا ہے جو ہر اس شخص کو چونکا دیتا ہے جس نے کبھی جدید کلاس روم میں لیکچر سنا ہو۔ چارلی کرک کی ایک سنجیدہ تصویر جس پر لکھا ہے: تعلیم کا اصل مقصد طلبہ کو یہ سکھانا ہونا چاہیے کہ  وہ کیسے سوچیں، یہ نہیں کہ وہ کیا سوچیں — چارلی کرک صرف سولہ الفاظ۔ مگر یہ موجودہ تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خرابی کو سیدھا نشانہ بناتے ہیں۔ہم نے خاموشی سے ایک ایسا نظام قبول کر لیا ہے جو نوجوان ذہنوں کو خالی ہارڈ ڈرائیو سمجھتا ہے جس میں منظور شدہ رائے ڈالنی ہیں، نہ کہ پٹھوں کی طرح جنہیں ورزش کی ضرورت ہے۔  نتیجہ؟ ایک ایسی نسل جو باتوں کے پوائنٹس کو روبوٹ کی طرح دہرا سکتی ہے مگر جونہی بغیر سکرپٹ کے اپنی رائے کا دفاع مانگا جائے، گھبرا جاتی ہے۔ وہ خفیہ نصاب جس پر کوئی بات نہیں کرتا ہر سکول میں دو نصاب پڑھائے جاتے ہیں: سرکاری نصاب (ریاضی، سائنس، تاریخ، ادب) خفیہ نصاب  کون سے خیالات "درست" ہیں، کون سے سوالات "خطرناک"، کون سے نتائج پر پہنچنا ضروری ہے اگر تمہیں A گریڈ یا سماجی منظوری چاہیے دوسرا نصاب بھوئیں چڑھانے، کتابوں میں جانبدار الفاظ، منتخب خاموشی اور "uncomforta...