درودِ ابراہیمی: اللہ اور اس کے رسول سے ابدی تعلق کا نورانی رشتہ
اے اللہ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد پر، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم پر، بے شک تو تعریفوں والا، بزرگی والا ہے۔
یہ وہ خوبصورت دعا ہے جسے ہم درودِ ابراہیمی کہتے ہیں۔ ہر نماز میں، ہر ذکر میں، ہر خوشی اور غمی میں ہماری زبانیں اسے دہراتی ہیں۔
مگر کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اس درود کے پیچھے کتنی گہری حکمت، کتنا پیار اور کتنا عظیم راز چھپا ہے؟
جب سورۃ الاحزاب کی آیت نمبر 56 نازل ہوئی
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّيُهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود (یصلون) بھیجتے ہیں، اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو۔
تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فوراً پوچھا
یا رسول اللہ! ہم آپ پر سلام تو بھیجتے ہیں،
لیکن صلوٰۃ (یصلون) کیسے بھیجیں؟
نبی کریم ﷺ نے مسکرا کر یہی درودِ ابراہیمی سکھایا۔
اب یہاں ایک لطیف بات سمجھنے کی ہے۔لفظ "صَلَّیٰ" (یصلون) کی جڑ "صَلْو" یا "صِلَہ" سے ہے، جس کا بنیادی معنی ہے
رشتہ جوڑنا، تعلق قائم رکھنا، یاد رکھنا، کنکشن برقرار رکھنا۔
جب اللہ فرماتا ہے کہ میں اور میرے فرشتے نبی ﷺ پر "یصلون" کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اپنے حبیب ﷺ کو ہر لمحہ یاد رکھتا ہے، ان سے اپنا رشتہِ محبت برقرار رکھتا ہے، انہیں اپنی رحمتوں سے جوڑے رکھتا ہے۔اور پھر اللہ نے اپنے بندوں سے کہا
تم بھی اپنے نبی کو اسی طرح یاد رکھو، ان سے رشتہ جوڑو، ان سے کنکشن قائم کرو۔
اب اس رشتے کو جوڑنے کا، اس کنکشن کو قائم رکھنے کا، اس یاد کو تازہ رکھنے کا جو طریقہ اللہ نے اپنے لیے مقرر کیا ہے، اسے "صلوٰۃ" کہتے ہیں۔ یعنی نماز۔
اور اسی "صلوٰۃ" کے اندر اللہ نے اپنے حبیب ﷺ کی "صلوٰۃ" (درود) کو لازمی قرار دے دیا۔یعنی جب بھی کوئی بندہ اللہ سے جڑنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، اللہ اسے کہتا ہے
اے میرے بندے! اگر مجھ سے جڑنا ہے تو پہلے میرے حبیب سے جڑ
انہیں یاد کر، ان سے رشتہ جوڑ، ان پر درود بھیج!اس لیے ہر نماز میں تشہد میں بیٹھ کر ہم درود پڑھتے ہیں۔
یہ کوئی رسمی جملہ نہیں، یہ ایک زندہ کنکشن ہے۔
ہر بار جب ہم درود پڑھتے ہیں، ہمارا رشتہ رسول اللہ ﷺ سے تازہ ہو جاتا ہے۔
ہر بار جب ہم درود پڑھتے ہیں، اللہ اور فرشتوں کی صلوٰۃ کا ایک حصہ ہمارے نبی ﷺ تک پہنچتا ہے۔اور سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ نے امتِ محمدیہ کو یہ اعزاز دیا کہ قیامت تک جب بھی کوئی مسلمان نماز پڑھے گا، وہ درودِ ابراہیمی ضرور پڑھے گا۔
یعنی قیامت تک لاکھوں کروڑوں زبانیں، لاکھوں کروڑوں دلوں سے آپ ﷺ کا نام لیا جائے گا، آپ پر درود بھیجا جائے گا۔
یہ اللہ کا اپنے حبیب ﷺ پر خاص کرم ہے، اور ہم پر خاص احسان۔تو آئیے آج سے درودِ ابراہیمی کو محض زبان کا ورد نہ سمجھیں
بلکہ اسے ایک نورانی پل سمجھیں
جو ہمیں سیدھا رسول اللہ ﷺ کے دامنِ شفاعت سے جوڑتا ہے
اور وہاں سے اللہ کی رحمت کے سمندر تک لے جاتا ہے۔ہر درود ایک کنکشن ہے۔
ہر درود ایک محبت ہے۔
ہر درود ایک شکر ہے۔
ہر درود ایک وفاداری ہے۔
اے اللہ! ہمارے آقا، ہمارے مولا، ہمارے نبی محمد ﷺ پر، ان کی آل پر، ان کی ازواج پر، ان کی اولاد پر، ان کے صحابہ پر، اور ان سے محبت کرنے والوں پر اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش نازل فرما۔
اللھم صل علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید
اللھم بارک علیٰ محمد و علیٰ آل محمد کما بارکت علیٰ ابراہیم و علیٰ آل ابراہیم انک حمید مجید
یہ درود ہماری زندگی کا حصہ بن جائے، ہماری آخری سانس تک ہماری زبان پر رہے
یہ ہمارا اور آپ کا رب العزت سے وعدہ ہو۔
آمین۔

Comments
Post a Comment