طاقتور فوج کا اصل امتحان: سرحد نہیں، گلیاں ہیں
طاقتور فوج کا اصل امتحان: سرحد نہیں، گلیاں ہیں
تعارفپاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں شمار ہوتی ہے۔ سرحدوں پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی ہونا، دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دینا، قدرتی آفات میں عوام کی مدد کرنا — یہ سب ہماری فوج کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے روشن ثبوت ہیں۔ پاک فوج پائندہ باد!
لیکن ایک سوال دل میں اٹھتا ہے:
کیا فوج کی طاقت صرف سرحدوں تک محدود ہے؟
حقیقی طاقت کا معیارطاقتور فوج کا اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے جدید ہتھیار رکھتی ہے یا کتنی بڑی پریڈ کرتی ہے۔
اصل امتحان یہ ہے کہ:
- کراچی کی گلیوں میں رات کو عورت اکیلی چل سکے
- پشاور سے کوئٹہ تک سیاح بغیر سیکیورٹی گارڈ کے گھومیں
- لاہور میں تاجر کو لوٹ مار کا خوف نہ ہو
- بچے اسکول جاتے ہوئے ماں باپ کے دل میں فکر نہ ہو
سویٹزرلینڈ کی فوج دنیا کی چھوٹی فوجوں میں سے ایک ہے، لیکن وہاں رات کو گھر کے دروازے کھلے رہتے ہیں۔
جاپان میں پولیس کے پاس گن تک نہیں ہوتی، لیکن جرائم کا تناسب صفر کے قریب ہے۔
سنگاپور میں سیاح اکیلا رات کو سڑکوں پر چلتے ہیں — کوئی ڈر نہیں۔
کیا ہم بھی یہ خواب دیکھ سکتے ہیں؟ جی ہاں، بالکل!مسئلہ کہاں ہے؟فوج سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے — یہ اس کا بنیادی فرض ہے۔
لیکن اندرونی امن پولیس، عدلیہ اور حکومت کا کام ہے۔
جب:
- پولیس جدید ٹیکنالوجی اور تربیت سے محروم ہو
- قانون امیر غریب میں فرق کرے
- تعلیم اور روزگار نہ ہو تو جرائم بڑھیں
- پولیس کو جدید بنائیں — جدید ہتھیار، تربیت، اور تنخواہ
- قانون کی حکمرانی — سب برابر، کوئی استثنیٰ نہیں
- تعلیم اور روزگار — جب پیٹ بھرے ہوں گے، لوٹ مار خود کم ہو جائے گی
- فوج کو سرحد پر رکھیں — اندرونی امن کے لیے پولیس کو مضبوط کریں
طاقتور فوج وہ نہیں جو پریڈ گراؤنڈ میں دکھے،
بلکہ وہ جو عوام کے دل سے خوف نکال دے۔
جب پاکستان کے ہر شہری کو یہ یقین ہو کہ وہ بے خوف زندگی گزار رہا ہے،
تب دنیا خود کہے گی:
"یہ فوج واقعی طاقتور ہے"۔
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

Comments
Post a Comment