قرآن کی آیت “الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ” کو درست سمجھیے
قرآن کی آیت “الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ” کو درست سمجھیے
ایک عام غلط فہمی کا قلع قمع
آج کل سوشل میڈیا پر ایک آیت کا خوب چرچا ہے:
"الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ"
(النساء 34)
یعنی ”مرد عورتوں پر قوام (حاکم/نگران/ذمہ دار) ہیں
“اسے پڑھتے ہی کچھ مردوں کے دماغ میں فوراً فلم چلنے لگتی ہے:
”واہ! اب تو ہم پوری دنیا کی عورتوں کے مالک ہوگئے!“
گلی، محلہ، دفتر، بس سٹاپ… ہر جگہ بیگموں کو حکم دینے کا لایسنس مل گیا!
بھائی جان، یہ سراسر جہالت ہے۔
یہ آیت شادی کے مقدس معاہدے کے اندر کی بات ہے،
نہ کہ پوری کائنات کی عورتوں پر تسلط کی۔
شادی دراصل ایک “سوشل کانٹریکٹ” ہےجب ایک لڑکا اور لڑکی نکاح کرتے ہیں تو دراصل وہ ایک کنٹریکٹ پر دستخط کر رہے ہوتے ہیں جس کا نام ہے “خاندان کا قیام”۔
اس کنٹریکٹ کے دو فریق ہوتے ہیں:
فرسٹ پارٹی (مرد)
سیکنڈ پارٹی (عورت)
فرسٹ پارٹی کا کام کیا ہے؟
گھر کا خرچہ اٹھانا
بیوی کو مکمل مالی تحفظ دینا
بچوں کی پرورش، تعلیم، صحت کا بندوبست
بیوی کی عزت، آرام اور سکون کی ضمانت
یعنی مرد “سروس پرووائیڈر” ہے۔
انگریزی میں اسے کہتے ہیں Primary Obligor
یعنی بنیادی ذمہ دار۔
سیکنڈ پارٹی کا کام کیا ہے؟
شوہر کا وفادار ساتھی ہونا
گھر کی نگرانی، بچوں کی تربیت میں مکمل تعاون
شوہر کی عزت و وقار کا خیال رکھنا
دونوں کے حقوق اور ذمہ داریاں برابر ہیں، بس کردار مختلف ہیں۔
“قوام” کا مطلب “مالک” نہیں، “ذمہ دار” ہے
لفظ قوّام عربی زبان میں “قائم بالشیء” سے نکلا ہے یعنی
”جو کسی چیز کو قائم رکھے، سنبھالے، حفاظت کرے
“۔جیسے آپ کہتے ہیں “قوام المعاش” یعنی گھر کا نان نفقہ دینے والا۔
یہ کوئی بادشاہت کا تاج نہیں،
بلکہ بھاری ذمہ داری کا بوجھ ہے۔اگر مرد یہ ذمہ داری پوری نہ کرے تو وہ
“قوام” نہیں رہا، کنٹریکٹ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اور کنٹریکٹ ٹوٹے تو سیکنڈ پارٹی (بیوی) کو خلع کا پورا حق ہے۔
خلاصہ یہ کہ:
یہ آیت گلی محلے کی لڑکیوں کو حکم دینے کا لایسنس نہیں دیتی۔
یہ آیت صرف نکاح کے اندر شوہر کو یاد دلاتی ہے کہ:
”اے مرد! تیری بیوی تیری رعایا نہیں، تیری امانت ہے۔
تُو نے اللہ کے سامنے وعدہ کیا ہے کہ تُو اسے کھلائے گا، پہنائے گا، عزت دے گا۔
اگر تُو نے یہ کام نہ کیا تو تُو قوام نہیں، غدار ہے۔“
جو مرد اس آیت کو “غرور” کا سرٹیفکیٹ سمجھتا ہے، وہ دراصل قرآن کی سب سے بڑی آیت کو بھی غلط پڑھ رہا ہے جو کہتی ہے:
"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ"
(البقرہ 228)
یعنی ”عورتوں کے حقوق بھی مردوں جتنے ہی ہیں بالمعروف“
تو آئیے اس آیت کو “تسلط” کی بجائے “ذمہ داری” سمجھیں۔
:ورنہ کل کوئی بیوی پوچھ بیٹھے گی
”اگر تُو قوام ہے تو میرا نیٹ کا بل کیوں نہیں بھرا؟“
پھر شرمندگی کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
شیئر کریں تاکہ یہ خوبصورت دین کی خوبصورت تعلیم پھیلے،
نہ کہ جاہلیت کی غلط فہمی۔
#قرآن_کی_سمجھ #نکاح_کنٹریکٹ #قوام_ذمہ_داری_ہے

Comments
Post a Comment