بالی ووڈ کے مسلمان: ٹوپی، تعویز اور لکھنوی آداب کا عجائب گھر!
سر پر سفید ٹوپی، گلے میں بڑا سا تعویز لٹکتا ہوا، سرمہ لگا کر "آداب عرض ہے جناب" کہتے ہوئے
اور اگر پاکستانی دکھانا ہو تو بس ایک ہی سٹائل: سخت گیر، مشن پر نکلا ہوا، یا پھر کوئی غدار ISI ایجنٹ جو ہندوستانی ہیرو کو پریشان کرے۔
اب حقیقت کیا ہے؟
میں نے ہزاروں ہندوستانی مسلمانوں سے ملاقاتیں کی ہیں
(جی ہاں، حقیقی زندگی میں!) – کوئی ٹوپی پہنے نظر نہیں آیا جو ہر وقت "آداب" کر رہا ہو۔ عام مسلمان تو جینز ٹی شرٹ میں گھوم رہے ہوتے ہیں، آفس جا رہے ہوتے ہیں، چائے پی رہے ہوتے ہیں، یا پھر اپنے کاروبار میں مصروف۔
کوئی تعویز گلے میں لٹکا کر نہیں پھرتا جیسے وہ کوئی سپر پاور ہو
بالی ووڈ والوں کو مسلمان دکھانا ہے تو یا تو وہ "اچھا مسلمان" ہو جو ہندوستان کے لیے قربان ہو جائے، یا "برا" جو د، دہشت گرد یا گینگسٹر۔
اور پاکستانی؟ او، اوہو، وہ تو ہمیشہ منفی!
ہیرو کو پاکستان میں گھس کر مشن مکمل کرنا پڑتا ہے۔
چلو، پیسہ ان کا ہے، فلم ان کی، جیسا چاہیں بنائیں۔
لیکن کم از کم حقیقت کے قریب تو دکھائیں نا
تازہ مثال دیکھیے: حالیہ وائرل فلم "دھرندر" میں اکشے کھنہ کا کردار – رحمان ڈکیت، بلوچ گینگسٹر۔ انٹری پر عربی گانا بج رہا ہے، بلوچ ڈانس ہو رہا ہے، اور سلام آداب کا تو پتہ نہیں،
لیکن بلوچ کو لکھنوی سٹائل میں دکھانے کی کوشش؟
ارے بھائی، بلوچستان والے تو اپنی بلوچی ثقافت میں گھوم رہے ہوتے ہیں، لکھنوی شروانی اور آداب کہاں سے آ گئے؟
یہ تو جیسے سارے مسلمان ایک ہی ہیں – چاہے ہندوستانی ہو یا پاکستانی
بالی ووڈ والو، اگر مسلمان دکھانا ہی ہے تو جیسے وہ حقیقی زندگی میں ہوتے ہیں دکھاؤ نا!
ڈاکٹر، انجینئر، بزنس مین، آرٹسٹ – متنوع، جدید، عام لوگ۔ ٹوپی تعویز والا سٹیریوٹائپ اب پرانا ہو گیا ہے۔
عوام کو بھی اب سچائی پسند ہے، ڈرامہ نہیں!
کیا کہتے ہو، اگلی فلم میں کوئی تبدیلی آئے گی؟
یا پھر وہی پرانا فارمولا؟

Comments
Post a Comment