ملحدوں شور نہ کرو، پیکچر تو ابھی باقی ہے!
بالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہوئے کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ فلم ساز اور ڈرامہ نگار ہماری زندگی کی گہری حقیقت کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
فلم کی شروعات میں ہیرو کو دھکے کھانے پڑتے ہیں، ظالم بادشاہ یا ولن سب کچھ لوٹ لیتا ہے، مظلوم روتے رہتے ہیں، ظلم کی انتہا ہو جاتی ہے۔
لیکن پھر آتا ہے کلائمکس
ہیرو اچانک طاقتور ہو جاتا ہے، ولن کو پکڑتا ہے، انصاف ہوتا ہے، اچھے کے ساتھ اچھا اور برے کے ساتھ برا۔
آخر میں "ہپی اینڈنگ" اور تالیوں کی گونج۔
شاہ رخ خان کی ایک مشہور ڈائیلاگ یاد آتا ہے
پیکچر ابھی باقی ہے میرے دوست
یہ ڈائیلاگ تو فلم کے لیے تھا
مگر یہ دنیا کی حقیقت پر بھی بالکل فٹ بیٹھتا ہے۔
ملحد بھائیوں کا سب سے بڑا اعتراض یہی ہوتا ہے کہ
اگر خدا ہے تو دنیا میں اتنا ظلم کیوں؟
بچے بھوکے کیوں مر رہے؟
ظالم کیوں کامیاب ہیں؟
مظلوم کیوں رو رہے؟
اگر خدا ہے تو سپرمین کی طرح آسمان سے اتر کر ظالموں کو کیوں نہیں پکڑتا؟
سلطان راہی کی طرح گنڈاسہ اٹھا کر ولن کو کیوں نہیں مارتا؟
ان کا خیال ہے کہ انصاف تو فوراً، یہاں اور ابھی ہونا چاہیے۔ جیسے فلم کا ہیرو تیسرے ریل میں آ کر سب ٹھیک کر دیتا ہے۔
مگر بھائی، یہ دنیا کوئی دو گھنٹے کی فلم نہیں۔
یہ ایک لمبی، بہت لمبی سیریز ہے جس کا فائنل سیزن ابھی آنا باقی ہے۔
قرآن میں اللہ فرماتا ہے
"کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صرف یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے، اور ان کا امتحان نہ لیا جائے گا؟" (العنکبوت: 2)
یہ دنیا امتحان گاہ ہے، دار الامتحان۔ یہاں اچھائی اور برائی کو موقع دیا گیا ہے کہ وہ خود کو ثابت کریں۔ ظالم کو لگتا ہے وہ کامیاب ہو گیا، مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کی "ہپی اینڈنگ" تو جہنم میں لکھی جا چکی۔ مظلوم رو رہا ہے، مگر اس کا صبر اور ایمان اسے جنت کا مالک بنا رہا ہے۔
آخرت وہ کلائمکس ہے جس کا انتظار ہے۔ قیامت کا دن وہ فائنل سین ہے جہاں حقیقی انصاف ہوگا۔ وہاں کوئی ولن بچ نہیں سکے گا، کوئی مظلوم محروم نہیں رہے گا۔
اللہ فرماتا ہے
اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف اور بھوک سے، اور مال اور جانوں اور پھلوں کے نقصان سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو (البقرہ: 155)
تو ملحد بھائیو، جلدی نہ کرو۔
شور نہ مچاؤ کہ خدا نہیں، انصاف نہیں۔
پیکچر تو ابھی باقی ہے میرے دوست
دنیا کا اختتام ہوگا تو اچھے کے ساتھ اچھا ہوگا، برے کے ساتھ برا۔
وہ دن آئے گا جب ظالم کے منہ سے چیخ نکلے گی
"کاش میں مٹی ہوتا"
اور مظلوم مسکراتے ہوئے جنت کے دروازوں سے داخل ہوگا۔
تب تمہیں پتہ چلے گا کہ ڈائریکٹر کی حکمت کتنی گہری تھی۔
تب تمہیں سمجھ آئے گا کہ آخرت ہی اصل ہپی اینڈنگ ہے۔
تب تک صبر کرو۔
یا پھر... ایمان لا کر خود کو ہیرو بنا لو۔
کیونکہ پیکچر ابھی واقعی باقی ہے

Comments
Post a Comment