خود کو اسلامی بنائیں، پاکستان خود بخود اسلامی ہو جائے گا


 

اے میرے عزیز پاکستانی بھائیو اور بہنو


آج پاکستان کی آبادی تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ ہے، اور ہم میں سے اکثریت خود کو مسلمان کہتی ہے۔ ہم اذان سنتے ہی نماز کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، رمضان میں روزے رکھتے ہیں، حج اور عمرہ کے لیے لائنیں لگاتے ہیں۔


 لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ابھی مکمل اسلامی نہیں۔ 


سوال یہ نہیں کہ "پاکستان اسلامی کیوں نہیں بنا؟" 


بلکہ یہ ہے کہ "پاکستان کے 25 کروڑ مسلمان ابھی تک مکمل اسلامی کیوں نہیں بنے؟


"اسلام کے 98% احکامات تو فرد پر ہیں – نماز، روزہ، زکوٰۃ، سچ بولنا، امانتداری، حقوق العباد۔ صرف 2% احکامات ریاستی سطح پر ہیں۔ 


بیچارہ پاکستان تو صرف 2% میں 98% کو سپورٹ کرے گا، لیکن اگر ہم خود وہ 98% پر 

عمل نہ کریں تو نظام کیسے اسلامی بنے گا؟


 غلط فہمی یہ ہے کہ ملک کو ٹوپی پہنا کر، ختنہ کرا کر، اللہ ہو اللہ ہو کی گردان سے اسلامی بنا دیں گے۔

 نہیں

اسلام کو پہلے اپنے دلوں اور اعمال میں نافذ کریں، پھر معاشرہ اور ریاست خود بخود اسلامی ہو جائے گی۔


سوچیں ذرا دودھ کی دکان پر

 اگر دکان دار لکھتا ہے 

"خالص دودھ دستیاب ہے"

 تو اس کا مطلب ہے کہ ملاوٹ عام ہو گئی ہے۔ ایک حقیقی مسلمان تاجر تو خالص دودھ بیچے گا ہی، اسے لکھنے کی کیا ضرورت؟ 

کیونکہ اس کا ایمان اور اسلام تقاضا کرتا ہے کہ وہ سچ بیچے، ملاوٹ نہ کرے۔ 

یہی معاملہ شہد کا ہے، پھل کا، کپڑے کا، ہر کاروبار کا۔ جب تک ہم اپنے کاروبار میں ایمانداری نہیں لائیں گے

لکھ کر "خالص" بیچتے رہیں گے۔


اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور عمرہ کا نام نہیں۔ 

اسلام تو عملی زندگی میں ایک انسان کا دوسرے پر حق ادا کرنے کا نام ہے۔ سچ بولنا، امانت رکھنا، وعدہ نبھانا، غریب کا حق دینا، یتیم کی خبرگیری، پڑوسی کا خیال – یہی اسلام ہے۔ 

اگر ہم یہ سب کریں تو معاشرہ خود بخود پاک ہو جائے گا۔

اگر ہم خود کو اسلامی نہ بنائیں اور صرف ریاست سے مطالبہ کریں کہ

 "اسلام نافذ کرو" 

تو کیا ہو گا؟ 

پھر جب نظام نافذ ہو گا تو وہی پاکستانی سزا بھگتے گا جو اسلام فالو نہیں کر رہا۔ پھر روئیں گے کہ 

"پاکستان ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے!" 

درے کھائیں گے، جرمانے بھریں گے۔ 

بہتر ہے کہ آج سے خود اصلاح شروع کریں


اچھی خبر یہ ہے کہ تبدیلی ہو رہی ہے۔ 2025 میں اسلامی بینکنگ کے اثاثے 12.7 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں، مارکیٹ شیئر 21% سے زیادہ۔ 

آئین کے مطابق 1 جنوری 2028 تک سود کا مکمل خاتمہ ہو گا۔ یہ تبدیلی اوپر سے نہیں، عوام کی طلب اور ایمان سے آ رہی ہے۔


اے مسلمانو

آئیں عہد کریں کہ آج سے اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں۔ سچ بولیں، ایمانداری کریں، حقوق ادا کریں۔ 

جب ہم خود اسلامی بن جائیں گے تو پاکستان دنیا کا بہترین اسلامی ملک بن جائے گا۔


اللہ ہم سب کو توفیق دے۔ آمین!

آپ کی رائے کیا ہے؟

 اپنی زندگی میں اسلام کو کیسے نافذ کر رہے ہیں؟ 

تبصرے میں ضرور شیئر کریں۔

Comments

Popular posts from this blog

ختم اولیاء: وہ خفیہ بریک جو لوگوں نے مار دی، لیکن بات نہیں کرتے!

درودِ ابراہیمی: اللہ اور اس کے رسول سے ابدی تعلق کا نورانی رشتہ

‏ایک کلک پر جانو کہ قران کی کس آیت کے نزول کا سبب کیا ھے؟