رب کا VFX اسٹوڈیو: جہاں ۸ ارب ہیرو ایک ساتھ شوٹ کر رہے ہیں مگر کوئی گرین اسکرین نہیں، صرف پردۂ غیب!


 اے بھائیو اور بہنو

آج کل جب بھی کوئی بالی ووڈ یا ہالی ووڈ کی فلم کا سین دیکھتے ہو تو پیچھے گرین اسکرین ہوتی ہے

VFX 

والے بعد میں پہاڑ، سمندر، خلائی جہاز، ڈائنوسار جو مرضی ڈال دیتے ہیں۔ اداکار تو بس ایک خالی ہال میں کھڑے ہو کر 

ارے نہیں

چلّاتا ہے اور ہم سینما میں بیٹھ کر رو پڑتے ہیں کہ واہ کیا سین تھا۔

اب ذرا سوچ

اگر پوری کائنات ہی ایک بہت بڑا فلم سیٹ ہو؟

کوئی گرین اسکرین نہیں، کوئی لائٹ مین چیخ چیخ کر “سائیلنس!” نہیں چلا رہا، کوئی کلپر بوائے “ٹیک ون!” نہیں بول رہا، مگر پھر بھی ہر لمحہ شوٹ ہو رہا ہے، لائیو، 24/7، بغیر کسی “کٹ” کے۔اور ڈائریکٹر؟ وہ اوپر بیٹھا مسکرا رہا ہے۔

ہر انسان = ایک ہیرو + اپنا ذاتی کریو

فلم کی شوٹنگ میں ہوتا کیا ہے؟

 200-300 کریو ممبر

1000-2000 تماشائی گھیرا ڈال کر کھڑے ہوتے ہیں

اداکار بس اپنے فریم میں دیکھتا ہے، سامنے والا ہجوم اسے دکھائی ہی نہیں دیتا

اب اللہ کا 

VFX 

دیکھو

تم سوچ رہے ہو تم اکیلے ہو کمرے میں؟

نہیں جناب! تمہارے ساتھ کم از کم تین ممبر ہمیشہ موجود ہوتے ہیں

 اللہ – ڈائریکٹرِ اعلیٰ، جو تمہیں دیکھ رہا ہے (وہ تو ہر جگہ ہے)

دو فرشتے – ایک دائیں، ایک بائیں، تمہاری ہر حرکت، ہر بات

الٹرا ایچ ڈی میں ریکارڈ کر رہے ہیں (کراماً کاتبین)

اب جب تم گھر سے نکلتے ہو، بازار میں، آفس میں، بس میں؟

جو لوگ تمہیں نظر آ رہے ہیں، ان کی تعداد کو دو سے ضرب دے دو۔

کیوں؟

کیونکہ ہر انسان کے ساتھ بھی اس کے دو فرشتے ہیں

یعنی 8 ارب انسان × 2 = 14 ارب “کریو ممبرز” جو تمہارے اردگرد چل پھر رہے ہیں، مگر تمہیں نظر نہیں آتے۔

اور یہ تو صرف “لازمی کریو” ہے۔ اس کے علاوہ جنات، فرشتوں کی فوجیں، اور اللہ جانے کتنے اور “بیک گراؤنڈ ایکٹرز” ہیں جو تماشا دیکھ رہے ہیں۔

جب تماشائی سیٹ پر گھس آئیں کبھی کبھار فلم کی شوٹنگ میں کوئی دیوانہ فین گرین اسکرین توڑ کر اندر گھس آتا ہے نا؟

سیکیورٹی والے پکڑ کر باہر پھینک دیتے ہیں، مگر سین خراب ہو جاتا ہے۔

بالکل ویسے ہی، کبھی کبھی ہمارے “خفیہ تماشائی” یعنی جنات بھی سیٹ پر گھس آتے ہیں۔

کوئی بھوتنی کنویں میں بیٹھی روتی ہے، کوئی بندے کے اندر گھس کر “میں بول رہا ہوں!” کرنے لگتا ہے، کوئی رات کو کمرے میں سایہ دکھا کر ڈراتا ہے۔

بس فرق یہ ہے کہ ہمارے پاس سیکیورٹی کے لیے آیت الکرسی، سورۃ البقرہ اور دم درود ہے – بس یہ پڑھو اور وہ بھاگ جاتا ہے جیسے فلم سیٹ سے باہر نکالا گیا ہو

تو پھر ہم کیا کر رہے ہیں؟

ہم سب ایک بہت بڑی فلم کے ہیرو ہیں، 

مگر: ہمیں اپنا اسکرپٹ یاد نہیں

ہمیں پتہ نہیں کیمرہ کب زوم ان کر رہا ہے

ہمیں لگتا ہے ہم اکیلے ہیں، مگر لاکھوں کروڑوں مخلوقات لائیو دیکھ رہی ہیں

اور سب سے بڑی بات – یہ فلم کبھی “کٹ” نہیں ہو گی، یہاں تک کہ مرنے کے بعد بھی “پوسٹ پروڈکشن” (قبر، حشر، پل صراط) چلے گی

تو اگلی بار جب تم اکیلے کمرے میں بیٹھ کر گناہ کرنے لگو، یا غیبت کر رہے ہو، یا نماز چھوڑ رہے ہو – ذرا سوچ لینا

کیمرہ اون ہے بھائی

ڈائریکٹر دیکھ رہا ہے، دو فرشتے لکھ رہے ہیں، اور پردۂ غیب کے پیچھے لاکھوں تماشائی تالیاں بجا رہے ہیں یا سر پکڑ رہے ہیں۔اداکاری کرو، لیکن ایسی کرو کہ فائنل کٹ میں “بہترین اداکار” کا ایوارڈ مل جائے

جس کا نام ہے جنت۔تب تک، لائٹس آن، کیمرہ آن، اور

اللہ اکبر


Comments

Popular posts from this blog

ختم اولیاء: وہ خفیہ بریک جو لوگوں نے مار دی، لیکن بات نہیں کرتے!

درودِ ابراہیمی: اللہ اور اس کے رسول سے ابدی تعلق کا نورانی رشتہ

‏ایک کلک پر جانو کہ قران کی کس آیت کے نزول کا سبب کیا ھے؟